جمعرات 13 اگست 2026 - 21:12
رہبرشہید (رہ) کی نظر میں حضرت زینب (س) کی انقلابی سیرت

حوزہ / دنیا کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ جس طرح انسانی معاشرے کے قیام و استحکام میں مردوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اسی طرح خواتین بھی معاشرتی زندگی کی تشکیل میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔

تحریر: کنیز زہرا شگری، جامعۃ الزہراء، سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی | خواتین نے عالمِ خلقت میں عظیم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں اور مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اسلام نے عورت کو کبھی کم تر یا تحقیر کا نشانہ نہیں بنایا، بلکہ اسے انسانی اور روحانی کمال کے میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کیا ہے۔

مقدمہ

خواتین کا معاشرے میں مقام اور کردار ایک ایسا موضوع ہے جو مختلف معاشروں، تہذیبوں اور تمدنوں میں ہمیشہ زیرِ بحث رہا ہے۔ دنیا کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ جس طرح انسانی معاشرے کے قیام و استحکام میں مردوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اسی طرح خواتین بھی معاشرتی زندگی کی تشکیل میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔

خواتین نے عالمِ خلقت میں عظیم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں اور مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اسلام نے عورت کو کبھی کم تر یا تحقیر کا نشانہ نہیں بنایا، بلکہ اسے انسانی اور روحانی کمال کے میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کیا ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ...﴾

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورت معنوی، روحانی اور انسانی فضائل کے اعتبار سے مرد سے کمتر نہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں عظیم شخصیات اور تحریکوں کی کامیابی میں خواتین کا کردار نمایاں رہا ہے۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دینِ اسلام کی ترویج میں بے مثال تعاون کیا، جبکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے دور میں اسلام کے دفاع اور حق کی حمایت میں عظیم کردار ادا کیا۔

انہی عظیم خواتین میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ علیہ السلام کو عظمت محض حضرت علی علیہ السلام کی دختر ہونے کی وجہ سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ آپ علیہ السلام کی عظمت کا بنیادی سبب آپ کا عظیم اسلامی و انسانی کردار، بصیرت، شجاعت اور وہ تاریخی موقف ہے جو آپ علیہ السلام نے فریضۂ الٰہی کی ادائیگی کے لیے اختیار کیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار

۱۔ انسانی کمال اور اجتماعی فعالیت

رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق عورت تین اہم میدانوں میں اپنی صلاحیت اور وجود کو ثابت کر سکتی ہے:

  1. انسانی کمال کا میدان
  2. اجتماعی فعالیت کا میدان
  3. خاندانی اور عائلی نظام کا میدان(عورت، گوہرِ ہستی، ص 39-40)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ان تینوں میدانوں میں اپنی عظمت اور صلاحیت کا عملی ثبوت پیش کیا، تاہم آپ علیہ السلام کی اجتماعی فعالیت سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔

۲۔ معرفت اور شعور

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو گہری معرفت اور بصیرت ہے۔ کربلا سے قبل اور روزِ عاشورا کے انتہائی بحرانی حالات میں آپ سلام اللہ علیہا نے ہر موقع کی مناسبت سے درست اقدام کا انتخاب کیا اور حالات کا بصیرت کے ساتھ سامنا کیا۔ (250 سالہ انسان، ص 194)

رہبرِ معظم انقلاب اسلامی فرماتے ہیں کہ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا معرفت اور شعور کے ساتھ اپنا کردار ادا نہ کرتیں تو کربلا کے بعد کی جدوجہد کامیاب نہ ہو سکتی۔ (عورت، گوہرِ ہستی، ص 68)

۳۔ فداکاری

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا میں فداکاری اور ایثار کی بے مثال مثال قائم کی۔ آپ سلام اللہ علیہا نے اپنے دو بیٹوں، حضرت عون اور حضرت محمد علیہما السلام کو بھی راہِ خدا میں قربان کیا۔ کون ایسا انسان ہے جس کے جذبات اور احساسات واقعۂ کربلا سے متاثر نہ ہوں؟

عاشورا کے روز جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا تلۂ زینبیہ پر تشریف لے گئیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کر عرض کیا: «یا رسولَ اللہ، صلّیٰ علیک ملائکۃُ السماء، ہٰذا حسینک مُرمّلٌ بالدماء، مُقطّعُ الأعضاء، مسلوبُ العمامۃِ والرداء» (فلسفۂ عزاداری و قیام امام حسینؑ، ص 14)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے شوہر اور گھر کو چھوڑ کر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا آئیں اور اپنے بیٹوں عون و محمد علیہما السلام کو بھی ساتھ لائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں راہِ خدا میں قربان کر سکیں۔ (250 سالہ انسان، ص 197)

حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے مضبوط عزم اور جذبۂ فداکاری کے ساتھ انتہائی دشوار حالات میں دین کا دفاع کیا۔ (اشکوں کا راز، ص 27)

۴۔ صبر و استقامت

صابر انسان مصائب اور مشکلات کے باوجود اپنی روحانی قوت اور انسانی شخصیت کو مجروح نہیں ہونے دیتا، کیونکہ جس مقصد کی طرف وہ گامزن ہوتا ہے، ناگوار حوادث اسے اپنے مقصد سے منحرف نہیں کر سکتے۔ وہ آزمائشوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مقصد کی راہ پر ثابت قدم رہتا ہے۔ (فلسفۂ صبر، ص 40)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صرف اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام ہی کو نہیں کھویا بلکہ اپنے دونوں بیٹوں، دیگر بھائیوں اور خاندانِ بنی ہاشم کے اٹھارہ جوانوں کی شہادت کا غم بھی برداشت کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ سلام اللہ علیہا ایک شکست خوردہ اور منتشر قافلے کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے تھیں۔ ایسے انتہائی کٹھن حالات میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صبر و استقامت کے ساتھ اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کیں۔ (250 سالہ انسان، ص 199)

۵۔ جرأٔت و شجاعت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو بے مثال جرأت و شجاعت ہے۔ عصرِ عاشورا تمام مرد شہید ہو چکے تھے اور خیموں میں امام سجاد علیہ السلام کے سوا کوئی مرد باقی نہیں تھا۔ امام علیہ السلام بھی بیماری کی شدید حالت میں تھے۔ خواتین اور بچوں کو دشمن نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ سب بھوک، پیاس، خوف اور اضطراب میں مبتلا تھے۔

ایسے انتہائی تلخ اور وحشت ناک حالات میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے انتہائی جرأت اور شجاعت کے ساتھ آگے بڑھ کر قافلے کو سنبھالا اور خواتین و بچوں کی حفاظت کی۔ (250 سالہ انسان، ص 199)

۶۔ واقعۂ عاشورا کو زندہ رکھنا

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسیری کے ایام میں، خواہ عصرِ عاشورا کا میدان ہو، کوفہ و شام کا سفر ہو، دربارِ شام ہو یا زندگی کے آخری ایام، ہر موقع پر فلسفۂ عاشورا، امام حسین علیہ السلام کے اہداف اور دشمن کے ظلم و ستم کو بیان کیا۔

اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اس عظیم ذمہ داری کو ادا نہ کرتیں تو شاید آج کربلا اپنی حقیقی صورت میں زندہ نہ ہوتی۔ (عاشورا کے امانت دار، ص 81)

رہبرِ معظم انقلاب اسلامی فرماتے ہیں: "اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہ ہوتیں تو عاشورا کے بعد کیا ہوتا؟ شاید امام سجاد علیہ السلام بھی شہید کر دیے جاتے اور شاید امام حسین علیہ السلام کا پیغام کہیں بھی نہ پہنچ پاتا"۔ (250 سالہ انسان، ص 195)

۷۔ ہنرمندانہ گفتگو اور خطابت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی فصاحت و بلاغت اور مؤثر خطابت کے ذریعے واقعۂ کربلا کی حقیقت کو زندہ رکھا اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا۔ اسی وجہ سے آپ سلام اللہ علیہا کو کربلا کے پیغام کی امین اور محافظ قرار دیا جاتا ہے۔ (اشکوں کا راز، ص 33)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی فصاحت و بلاغت کے ذریعے بلند و بالا مفاہیم اور مضامین کو مؤثر انداز میں بیان کیا اور کوفہ والوں سے مولا علی علیہ السلام کے لہجے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «یا أہلَ الکوفۃ، یا أہلَ الختلِ والغدر...»

آپ سلام اللہ علیہا کی خطابت نے دشمن کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور واقعۂ عاشورا کی حقیقی تصویر لوگوں کے سامنے پیش کر دی۔

نتیجہ

حضرت زینب سلام اللہ علیہا آج کی مسلمان خواتین کے لیے ایک کامل نمونۂ عمل ہیں۔ عصرِ حاضر کی خواتین آپ سلام اللہ علیہا کی سیرت سے شجاعت، فداکاری، صبر، استقامت، بصیرت اور احساسِ ذمہ داری کا درس حاصل کر سکتی ہیں اور معاشرے کی اصلاح و تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

آج کی خواتین بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنا کر موجودہ دور کی اسلامی اور انسانی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور حق و عدالت کی تحریک کو مستقبل کی عادلانہ اسلامی معاشرت سے جوڑنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

جس طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی بصیرت، شجاعت اور فصاحت کے ذریعے کربلا کے پیغام کو زندہ رکھا، اسی طرح آج کی خواتین بھی علم، بصیرت اور ہنرمندانہ گفتگو کے ذریعے اسلامی اقدار، حق و عدالت اور رہبرِ انقلاب اسلامی کے افکار و پیغامات کو مؤثر انداز میں معاشرے تک پہنچا سکتی ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ عورت کا کردار صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ جہاں دین، حق، عدل اور انسانیت کو اس کی ضرورت ہو، وہاں وہ علم، بصیرت، شجاعت اور استقامت کے ساتھ اپنا تاریخی کردار ادا کر سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha